Tuesday, November 13, 2012

Martin Pur {Sindh, Pakistan}




ننکانہ صاحب سے شاہ کوٹ جاتے ہوئے تقریباَ دس کلو میٹر کے فاصلے پر ینس آباد (Yunsabad)سے ایک ذیلی سڑک جنوب کی طرف نکلتی ہے۔ اس پر اندازاَ چار کلو میٹر کے فاصلے پر مارٹن پور کا قصبہ واقع ہے ۔ اس قصبے کی غالب آبادی مسیحی برادری پر مشتمل ہے۔ قصبے کی بنیاد 1898ء میں ایک عیسائی مشنری ڈاکٹر مارٹن نے رکھی اور اسی حوالے سے اس کا نام مارٹن پور رکھا گیا۔
آبادی سے نصف کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر دریائے راوی کی قدیم گزرگاہ کے واضح آثار دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس گزرگاہ سے بجانب شمال ،عرض بلد 31 27 30 اور طول بلد73 36 10پر یہ اہم اثری ٹیلہ واقع ہے۔ یہ اپنے محل وقوع کی نسبت سے ہڑپہ کی مثل قرار دیا جا سکتا ہے جو بالکل اسی طرح دریائے راوی کی متروک گزرگاہ کے بائیں کنارے آباد تھا۔ دریائے راوی کی واضح ، کشادہ اور ہنوز محفوظ گزرگاہ ،مارٹن پور کے ٹیلے کے ساتھ،دیکھنے والے کو آج بھی عالم تصور میں ہزاروں سال پہلے کے ہنستے بستے آباد و شاداب ماحول میں لے جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھیں جھپکیں گے تو دریائے راوی کے پانی کو اس گزرگاہ میں ایک بار پھر بہتا ہوا پائیں گے۔ یہ الگ بات کہ دریاؤں کی راستہ بدلنے کی سرشت نے بعہد حاضر راوی کو مارٹن پور سے تیس چالیس کلو میٹر دور کر دیا ہے۔
ٹیلے کی بلندی بتدریج دس بارہ فٹ تک پہنچتی ہے اور یہ تقریباَ تیس ایکٹر رقبے کا احاطہ کرتا ہے ۔اس رقبے کو کہیں کہیں سے ہموار کر کے قابل کاشت بنانے کا عمل خاصی تیزی سے جاری ہے۔ اس حوالے سے اس اثری ٹیلے کو اب تک ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ بہت سا اہم مواد اب تک یا تو تلف ہو چکا ہے یا اپنے اصل محل وقوع سے ہٹنے کی وجہ سے معلومات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔ خدشہ ہے کہ یہ سرگرمیاں جاری رہیں تو آنے والے چند سالوں یا ایک دو دھائیوں میں یہ ٹیلہ مکمل طور پر ختم ہو جائیگا۔
ٹیلے کی سطح پر بارشوں کے نتیجے میں جا بجا کٹاؤ(Fissure)پیدا ہوئے ہیں۔ مٹی میں شور کے اثرات اور نمکیات کی کثر ت نے برتنوں کے ٹکڑوں کو خاصا نقصان پہنچایا ہے اور ان کی سطح پر موجود نقش و نگار مدھم یا تلف کر دیئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سطح کے مطالعے کے دوران بالعموم اتنے اچھے سفالی ٹکڑے دستیاب نہیں ہوتے جتنے نواح میں واقع دوسرے اثری ٹیلوں یعنی پیڑاں والی ، پنج پیر اور نولاں میں دیکھنے میں آتے ہیں۔
ٹیلے کی جنوبی سمت میں واقع آبادی صنعتی سرگرمی کا مرکز رہی ہو گی ۔ اس حقیقت کی نشاندہی آبادی کے اس زیریں حصے میں ،جو تقریباَ دریا کی گزرگاہ تک پھیلا ہو اہے، ملنے والے بھٹیوں کے آثار کرتے ہیں۔ اس امر کا تعین بہرحال ایک محتاط مطالعے کے بعد کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ بھٹیاں کس کس مقصد کے لئے استعمال ہوئی ہوں گی۔ ان کی تعداد اس رائے کو تقویت دیتی ہے کہ بھٹیوں کی مدد سے ساختہ اشیاء مقامی طور پر استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے مراکز میں فروخت کے لئے بھیجی جاتی ہوں گی۔ مارٹن پور اپنی وسعت کے باوصف ان اشیاء کی کھپت کے خاطر خواہ امکانات کا حامل ہے۔ لیکن ایسا بھی یقیناَ ہوتا ہو گا کہ یہاں کے رہنے والے ،علاقے میں رائج اشیاء اور اوزار بنا کر ہم عصر بستیوں تک فروخت کی غرض سے لے جاتے ہو ں۔
ٹیلے کی سطح، بعض مقا مات پر، اس حوالے سے محتاط مطالعے کی متقاضی ہے کہ یہاں آتش زدگی کی کسی قدر علامات نظر آتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کو ئی صنعتی سرگرمی ، مثلاَ کوزہ گری یا خشت سازی اس کا سبب رہی ہو لیکن کوئی اور وجہ بھی تفصیلی مطالعے کے نتیجے میں سامنے آ سکتی ہے ۔ جنوب اور جنوب غربی سمت میں ہڈیوں کا اجتماع بھی قابل غور ہے ۔ ان کا مطالعہ بعض اہم نتائج کے استنباط کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ حصہ دریا کی گزرگاہ کے بلند کنارے پر مشتمل ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ مقامی باشندے ،جن کی خوراک کا دارومدار کسی حد تک سیرو شکار پر ہو گا، اس حصے کو اپنی سرگرمی کا مرکز بناتے ہوں جو آبادی سے کسی قدرہٹ کر اور دریا کے قریب ہونے کی وجہ سے کشش کا حامل تھا۔ ان باقیات کو محفوظ کرنے اور ان پر تحقیق کرنے سے اس زمانے میں پائی جانے والی جنگلی حیات اور ماحول میں موجود سدھائے ہوئے جانوروں کے بارے میں خاصی معلومات کا حصول ممکن ہے ۔ ہڑپائی ماحول میں اب تک جن جنگلی جانوروں کا سراغ ملا ہے ان میں ہاتھی ، گینڈا، جنگلی سور، چیتل، پاڑا، بارہ سنگھا، کالا ہرن، چنکارہ یا غزال، نیل گائے اور مگر مچھ یا گھڑیال وغیرہ شامل ہیں ۔ یہ ان جانوروں سے الگ ہیں جن کو انسا ن اس وقت تک سدھانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ سدھائے ہوئے جانوروں میں کوھان دار جانوروں کے علاوہ بھیڑ بکریاں وغیرہ شامل تھے۔ ان جانوروں کے حوالے سے انسانی معاشرے میں بے پناہ تبدیلیاں وارد ہوئی تھیں۔ سیروشکار پر اس کا قطعی انحصا ر بڑی حد تک کم ہو گیا تھا۔ ان کی مدد سے زرعی معاشرے نے فروغ پایا تھا اور یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ اس عظیم الشان تہذیب کی بنیاد پڑی تھی جو قرن ہائے قدیم کی سب سے بڑی تہذیب گمان کی جاتی ہے۔ جانوروں کو سدھانے کے عمل، اس کے پس منظر اور ارتقاء کے حوالے سے مختلف سوال محققین کے پیش نظر رہے ہیں۔

ایف ۔آر۔ الچن (F.R. Allchin)کے مطابق:۔

"The first problem must be to discover what animals were utilized at different periods and what was the history of each species. A second problem would seem to involve the origin of each domestic species, and whether it was introduced from outside in an already domesticated condition, or was locally domesticated from indigenous wild speicies. A third problem would be to find out what changes, if any, were consequent upon domestication. And a fourth general problem would concern the utilization of different species, for food, traction, etc., at various periods."
دریائے راوی کے کنارے پائی جانے والی ہڑپائی بستیوں کے حوالے سے بھی یہ سوال اتنے ہی متعلق اور قابل غور ہیں جس قدر عظیم تر وادی سندھ کی تہذیب کے حوالے سے ۔عین ممکن ہے کہ مارٹن پور کی ان باقیات کا استخوانی مطالعہ جہاں ان سوالات کا کسی قدر حل تجویز کرے وہیں کوئی چونکا دینے والا انکشاف بھی ہمارا منتظر ہو۔
ٹیلے پر ہر طرف ٹھیکریاں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ بعض جگہوں پر ان کا ارتکاز نسبتاَزیادہ ہے۔ اس اعتبار سے منتخب سفالی ٹکڑے اکٹھا کرنے کے لئے یہ جگہیں قدرے موزوں ہیں۔ مٹی کے برتن سادہ بھی ہیں اور ایسے بھی جن پر ہلکے یا گہرے سرخ رنگ کی slipجمائی گئی ہے۔ کئی صورتو ں میں سرخ تہہ کے اوپر سیاہ رنگ کے نقش و نگار بھی دیکھنے میں آتے ہیں اور کوٹ ڈجی اور ہڑپائی عہد میں مروجہ نقش گری کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔
زرد رنگ کی سلپ کے حامل برتن بھی خال خال دیکھنے میں آتے ہیں ۔ زردی مائل یا بف(Buff)سلپ زیادہ تر بلوچستان میں سامنے آنے والی قدیم آبادیوں کی نمائندہ پاٹری میں دیکھنے میں آتی ہے۔ مہر گڑھ، کیچی بیگ ، دمب سادات ،مرغزانی اور نال وغیرہ سے زردی مائل برتنوں کے ساتھ ساتھ مختلف درجوں میں اسی رنگت کی slipکے حامل برتنوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ خیال ہے کہ بلوچستان کے طول و عرض میں ایسی مٹی قدرتاَ دستیاب تھی یا کوزہ گر کو پسند تھی جو پختہ ہونے پر زرد رنگ کے مختلف shades، جو سبزی مائل تک پہنچتے تھے، اختیار کرتی تھی ۔ اسی رنگ کی slipمہیا کرنے کا بھی رواج تھا۔ یہ خیال بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس طرز کی پاٹری کسی ایک یا زائد مراکز میں بنانے کے بعد دوسرے قصبوں کو فراہم کی جاتی ہو گی ۔ پنجاب کی غربی سرحد کے ساتھ ساتھ اورصوبہ سرحد میں کوہ سلیمان کے دامن میں واقع آبادیوں مثلاَ وہوا ڈھیرہ، جھنڈی با بر اور رحمان ڈھیری میں بھی یہی صورت حال نظر آئی۔ اس کی ایک وجہ ژوب اور لورالائی سے اس علاقے کی قربت ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مقامی پسند کا دخل بھی ممکن ہے جیسا کہ آج تک دیکھنے میں آتا ہے ۔ مٹی کے سرخ برتنوں کے ساتھ، جو پاکستان کے طول و عرض میں بنائے جاتے ہیں، زردی مائل برتن بھی استعمال میں لائے جا تے ہیں۔ پنجاب میں خوشاب کے بنے ہوئے سفیدی مائل زرد برتن بالخصوص صراحیاں اور گھڑے نہ صرف لوگوں میں مقبول ہیں بلکہ بعض لوگ انہیں سرخ برتنوں پر کسی قدر فوقیت دیتے ہیں۔ زمانہ ما قبل تاریخ میں کوٹ ڈجی عہد کے اختتام اور عروج یافتہ ہڑپائی دور کے آغاز کے درمیان کے Transitional عہد میں بھی محدود پیمانے پر زردی مائل رنگ کی slipرائج رہی جس کی مثالیں پنجاب میں واقع کئی ہڑپائی ٹیلوں سے ملتی ہیں۔ مارٹن پور سے ملنے والی buffسلپ کی حامل ایک مثال کوٹ ڈجی عہد سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس پر گہرے بھورے رنگ کی نقش گری کی گئی ہے ۔ برتن اصلاَ ہلکے سرخ رنگ کا ہے ۔ ٹھیکری کی موٹائی اس امر کا اظہار کرتی ہے کہ برتن کسی قدر چھوٹا رہا ہو گا۔ البتہ دھانے یا پیندے کا کوئی حصہ نہ مل سکنے کی وجہ سے برتن کی ساخت کا تعین ممکن نہیں۔
ٹیلے کی سطح سے ملنے والے قدیم ترین برتن وہ جارز ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ چاک کے استعمال سے پہلے کی چیز ہیں۔ انہیں ہاکٹرہ اور کوٹ ڈجی عہد کے درمیان کی کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس انداز کے برتن دریائے راوی کے کنارے آباد تقریباَ ہر قدیم بستی سے ملے ہیں۔ ان کی تعداد ان آبادیوں میں زیادہ ہے جو بنیادی طور پر ہاکٹرہ عہد کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں اور جن میں نولاں ، راجن پور، حسوکے اورجلیل پورکے نام خصوصیت سے لئے جا سکتے ہیں۔ یہی امر متذکرہ بالا رائے کے قیام کا اصل باعث ہے۔ مارٹن پور سے ملنے والے دو پیالوں پر ایک سنٹی میٹر چوڑی ایک اور اس سے نصف چوڑائی کی دو لکیریں تھوڑے سے درمیانی وقفے کے ساتھ پیالوں کی اندرونی سطح کا احاطہ کرتی ہیں۔ پیالوں کی بیرونی سمت بنائی گئی لکیروں کی چوڑائی برائے نام ہے۔ جارز پر بنائے گئے نمونے بھی کم و بیش ایسے ہی ہیں البتہ یہ برتن کے دھانے سے نسبتا نیچے یا درمیان میں بنائے گئے ہیں۔
کوٹ ڈجی عہد کے جھری دار برتن مختلف درجے میں سرخ رنگ کی slipکے حامل ہیں۔ بعض برتن زیادہ حرارت کی وجہ سے اپنی اصل رنگت کھو کر سیاہی مائل ہو گئے ہیں۔ سرخ رنگ کی Groovedپاٹری پر سیاہ رنگ کی نقش گری، جو بالعموم دھانے کے قریب پٹی کی صورت دیکھنے میں آتی ہے، بھلی لگتی ہے۔ ان برتنوں کے ساتھ ساتھ Bandedپاٹری کی کچھ مثالیں اور پیریانو سلپ کی حامل ایک ٹھیکری ایسی ملی جس پر نصف سنٹی میٹر چوڑے ہلکے ہلکے متوازی ابھار ایپلک کی صورت جمائے گئے ہیں۔ برتن پر گہرے سرخ رنگ کی slipکے اوپر کہیں کہیں ابرتی ستارے جھلملاتے خوبصورتی میں اضافے کا باعث ہیں۔
بعض برتن مختلف آرائشی نقش و نگار سے سجائے گئے ہیں۔ آڑھی ترچھی لکیروں کے ملاپ ، نصف کروی لکیروں کے باہمی اتصال ، تکون نما شکلوں کی متوازی ترتیب ، مچھلی کے چھلکوں سے ملتی جلتی اشکال اور سید ھی یا لہریے دار لکیروں کی مدد سے بننے والے نمونے ان میں سے چند ڈیزائنوں کے ترجمان ہیں۔ برتنوں کی سطح پر موجود ہلکے یا گہرے سرخ رنگ کی تہہ پر سیاہ رنگ کی نقش گری کا دیدہ زیب تضاد قا بل دید ہے۔
کچھ سفالی ٹکڑے ’’ڈش آن سٹینڈ‘‘ ، جبکہ بعض ٹھیکریاں Flangedبرتنوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ Flangedبرتنوں پر سیاہ رنگ کی آرائش نسبتاَ زیادہ نظر آتی ہے۔ آرائشی نمونوں کے حوالے سے ہڑپائی برتنوں کی یہ طرز خاص تخصیص کی حامل ہے ۔ اس پر نوع درنوع نقش و نگار محض ظاہری آرائش تک محدود نہیں بلکہ بہت سی صورتوں میں ماحول کی ظاہری و باطنی جہتوں کی ترجمانی اور کوزہ گر کے اعتقادات و اشکالات بھی Flangedپاٹری پر بنائے گئے نمونوں کی بنیاد بنے ہیں۔ مارٹن پور سے ملنے والی مثالوں میں برتنوں کی زمین سرخ رنگ کی ہے ۔ Rimاور Flangeکے درمیان سیاہ رنگ کی پٹیاں ،جن کی چوڑائی مختلف ہے، بنائی گئی ہیں۔ ایک مثال میں فلینج کے نچلے حصے پر متوازی لکیروں کے مابین لہریے دار لائن بنائی گئی ہے جبکہ ایک اور نسبتاَ بڑے برتن پر فلینج کے نیچے سیدھی اور الٹی تکونیں بنا کر ایک مختلف ڈیزائن تخلیق کیا گیا ہے ۔ برتنوں پر اس قسم کی نقش گری دستکار کا خاصا وقت لیتی ہو گی ۔ بہرحال یہ امر ایک طرف اسے اپنی تخلیقی صلاحیت کے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہو گا تو دوسری طرف یقیناَ ایسے برتنوں کی فروخت زیادہ مالی منفعت کا باعث بنتی ہو گی ۔
گلی ظروف کا مطالعہ کرتے ہوئے شگافتہ یا Incisedبرتنوں کے ایسے ٹکڑے بھی دیکھنے میں آئے جن میں برتنوں کی اندرونی سمت آڑھی ترچھی لکیریں کھو دی گئی ہیں۔ بظاہر ایسے برتن اوکھلی کی حیثیت سے استعمال ہوتے ہوں گے۔ امکان ہے کہ مضبوط ساخت کے ان برتنوں میں لکڑی کے موسل کی مدد سے غلہ صاف کرنے کا کام کیا جاتا ہو گا۔ کھدے ہوئے حصے، غلہ کوٹنے کے عمل کے دوران ، اضافی رگڑ فراہم کر کے غلہ کی صفائی کو سہل بناتے ہوں گے۔ عروج یافتہ ہڑپائی دور کے ساتھ ساتھ ابتدائی ہڑپائی دور کی آبادیوں میں اس ساخت کے گلی ظروف کی باقیات اکثر نظر آتی ہیں۔ یہ طرز خاص اپنی مخصوص ہیئت کے باوصف تفصیلی مطالعے کی متقاضی ہے ۔
اثری ٹیلے کے مطالعے کے دوران ملنے والی دیگر اہم اشیاء میں چرٹ کا ایک Borer،مٹی کی چوڑیاں ، پختہ مٹی کا ایک منکہ اورکسی قدر ناپختہ مٹی کا ایک کیک شامل ہیں۔ چرٹ اوزار کی لمبائی ساڑھے تین سنٹی میٹر اور چوڑائی ایک سنٹی میٹر سے معمولی زیادہ ہے۔ اس کا رنگ گہرا سیاہ ہے۔ ایک طرف سے اس کی لمبوتری ساخت اس امر کی نشاندھی کرتی ہے کہ غالباَاسے سوراخ کرنے کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہو گا۔ اس علاقے کی دیگر قدیم آبادیوں سے محدود تلاش کے نتیجے میں ، جو چرٹ بلیڈ ہاتھ آئے وہ بالعموم زردی مائل رنگت کے حامل ہیں۔ غالب گمان کے مطابق انہیں روہڑی یا کوٹ ڈجی کے نواح سے لایا گیا ہو گا۔ سیاہ رنگ کے چرٹ پتھر ،خیا ل ہے کہ کوہستان نمک کے کسی مرکز سے حاصل کئے جاتے ہوں گے جو قرب مکانی کے لحاظ سے اس بات کا زیادہ سزاوار ہو گا کہ دریائے راوی کے کنارے بسنے والے لوگ بلوچستان کے کسی دو ردراز علاقے کی بجائے ضرورت کی یہ چیز یہاں سے منگوائیں۔ وادی سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والی آبادیوں کے حوالے سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ کئی صورتوں میں چرٹ پتھر یا ناقص عقیق کو خام حالت میں منگوانے کے بعد اوزار سازی کا کام مقامی سطح پر کیا جاتا تھا۔ تقریباَ ہر آبادی سے ملنے والے flakes(چھلکا پتھر) اور cores(مغز پتھر ) اس امر پر دلالت کرتے ہیں ۔ چونکہ اوزار سازی کے لئے دستکارکسی بیرونی مدد کا محتاج نہیں تھا اس لئے امکان ہے کہ خام مال منگوانے کے لئے وہ قریب ترین querryکا انتخاب کرتا ہو گا۔ اس رائے کو کسی طور حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہڑپائی عہد سے تعلق رکھنے والے مفرد اور مرکب اوزاروں کا، دریائے راوی کے پس منظر میں، خصوصی اور باتفصیل جائزہ لیا جائے اور ان کی فراہمی کے حوالے سے دور درازکے معروف مراکز کے ساتھ ہی ساتھ قریب کے ،کسی قدر عدم توجہی کا شکار ،مراکز کو ہمت ، جذبے اور شعوری خواہش کے تحت جستجو کا مرکز بنایا جائے ۔ اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے معروف کوہستانی سلسلوں کے ساتھ ساتھ سرگودھا ، چنیوٹ، شاہ کوٹ اور سانگلہ ہل کے نواح میں واقع پہاڑیوں کا محتاط مطالعہ بھی، عین ممکن ہے، سود مند ثابت ہو سکے۔
مٹی کی چوڑیوں میں سرمئی اور سرخ دونوں رنگ کی چوڑیاں دیکھنے میں آئیں ۔ سرمئی چوڑیوں میں گول اور چپٹے جبکہ سرخ رنگت میں گول اور تکون نما سیکشنز کی حا مل چوڑیاں دستیاب ہوئیں ۔ سرمئی رنگ کی کچھ چپٹی چوڑیوں کی بیرونی سطح پر متوازی لائنیں کھنیچ کر نقش گری کی گئی ہے ۔ سرخ چوڑیوں پر اس طرح کے کھدے ہوئے نقوش نظر نہیں آتے۔
ایک مٹی کا منکہ بھی ملا جو دیگر ہم عصر بستیوں سے ملنے والے منکوں کی طرح دو کون نما اشکال کے باہم اتصال سے وجود میں آیا ہے۔ اس کا نصف حصہ بھٹی میں زیادہ پک جانے کی وجہ سے سیاہی مائل ہو گیا ہے۔
پختہ مٹی کے کیک کا ایک حصہ بھی دستیاب ہو ا جو زیادہ حدت کی وجہ سے سیاہی مائل ہو چکا ہے ۔ عروج یافتہ ہڑپائی دور میں اس انداز کے کیکس کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بحث کھڈاں والا (ب) کے ضمن میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ٹیلے کی سطح سے ایک کوڑی بھی دستیاب ہوئی ۔ یہ خرمہرہ یا چھوٹا سنکھ عموماَ اثری ٹیلوں سے ملتا ہے ۔ ماضی قریب میں اسے بطور سکہ بھی استعمال کیا جاتا رہا ۔قرون وسطی میں غلاموں کو کوڑیاں پہنائی جاتی تھیں جو غلامی کی نشانی کے طور پر طوق گریبان رہتی تھیں۔ بعہد حاضر بہت سے علاقوں میں خواتین اسے زیور کی حیثیت سے پہنتی ہیں۔ بعض علاقوں میں لباس کی آرائش و زیبائش کے ضمن میں بھی ان کا استعمال عام ہے۔
زمانہ ما قبل تاریخ میں کوڑیوں کا استعمال غور و خوض کا محتاج ہے ۔ آرائشی حوالوں سے ان کے استعمال کے ساتھ ساتھ یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ بعض مخصوص کھیلوں میں انہیں استعمال کیا جاتا رہا ہو گا۔ پنجاب کے طول و عرض میں آج بھی کئی ایسے کھیل رائج ہیں جن میں کوڑیاں مصرف میں لائی جاتی ہیں۔ مثلاَ باراں ٹہنی، پاسایاچوسر، چٹکل، اڈاکھڈا وغیرہ ۔جوئے کی بعض قسموں مثلاَ نکا پور ، میں بھی کوڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گمان غالب ہے کہ ان کھیلوں کی کوئی نہ کوئی شکل زمانہ ما قبل تاریخ میں بھی رائج رہی ہو گی اور اس عہد کے خردو کلاں مختلف انداز میں ان خرمہروں کو استعمال کرتے ہوں گے۔
اس باب کے اختتام سے قبل یہ بات کہنی ضروری ہے کہ ٹیلے کے مطالعے کے دوران بعض ایسے مٹی کے برتنوں کی باقیات اور لوہے کے اوزاروں کے ٹکڑے بھی دستیاب ہوئے جو زمانہ تاریخ سے متعلق ہیں۔ ان کے بارے میں زیادہ جستجو سے کام نہیں لیا گیا۔
مارٹن پور کا یہ اثری ٹیلہ کچھ حوالو ں سے بہت اہم ہے ۔دریا کی گزرگاہ کی اصل حالت میں موجودگی اس کی اہمیت کو دو چند کر دیتی ہے ۔ اس گزرگاہ کے ساتھ ساتھ سفر بہت سے اثری انکشافات کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ بعہد حاضر جس تیزی سے یہ ٹیلہ ،زرعی مقاصد کے لئے ،ہموار کیا جار ہا ہے ا سکے پیش نظر خطرہ ہے کہ یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس کاجو حصہ ابھی تک محفوظ ہے اس کا تحقیقی جائزہ تفصیل سے لیا جائے اوراسے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ قدیم تاریخ سے متعلق یہ اہم ورثہ ، جو آنے والی نسلوں کی بھی امانت ہے ان تک پہنچ سکے۔